نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں
حضرت انس بن نضر کی شہادت
قصہ حضرت انس بن نضر کی شہادت کا
حضرت انس بن نضر ایک صحابی تھے جو بدر کی لڑائی میں شریک نہیں ہو سکے تھے۔ ان کواس چیز کا صدمہ تھا اس پر اپنے نفس کو ملامت کرتے تھے کہ اسلام کی پہلی عظیمُ الشان لڑائی اور تو اس میں شریک نہ ہوسکا اس کی تمنا تھی کہ کوئی دوسری لڑائی ہو تو حوصلے پورے کردں۔ اتفاق سے احد کی لڑائی پیش آگئی جس میں یہ بڑی بہادری اور دلیری سے شریک ہوئے احد کی لڑائی میں اول اول تو مسلمانوں کو فتح ہوئی مگر آخر میں ایک غلطی کی وجہ سے مسلمانوں کو شکست ہوئی وہ غلطی یہ تھی کہ( حضور اکرم ) نے کچھ آدمیوں کو ایک خاص جگہ پر مقرر فرمایا تھا کہ تم لوگ اتنے میں نہ کہوں اس جگہ سے نہ ہٹنا کہ وہاں سے دشمن کے حملہ کر نے کا اندیشہ تھا جب مسلمانوں کو شروع میں فتح ہوئی تو کافروں کو بھاگتا ہوا دیکھ کر یہ لوگ بھی اپنی جگہ سے یہ سمجھ کر ہٹ گئے، کہ اب جنگ ختم ہو چکی اس لئے بھاگتے ہوئے کافروں کا پیچھا کیا جائے اور غنیمت کا مال حاصل کیا جائے۔ ۔ اس جماعت کے سردار نے منع بھی کیا کہ آپ کی ممانعت تھی تم یہاں سے نہ ہٹو مگران لوگوں نے یہ سمجھ کر کہ آپ کاارشادصرف لڑائی کے وقت کے واسطے تھا، وہاں سے ہٹ کرمیدان میں پہنچ گئے بھاگتے ہوئے کافروں نے اس جگہ کو خالی دیکھ کر اس طرف سے اکر حملہ کر دیا مسلمان بے فکر تھے اس اچانک بے خبری کے حملہ سے مغلوب ہو گئے اور دونوں طرف سے کافروں کے بیچ میں آگئے جس کی وجہ سے ادھر ادھر پریشان بھاگ رہے تھے حضرت انس نے دیکھا کہ سامنے سے ایک دوسرے صحابی حضرت سعد بن معاذآ رہے ہیں اُن سے کہا کہ اے سعد کہاں جارہے ہو، خدا کی قسم جنت کی خوشبو احد کے پہاڑ سے آرہی ہے یہ کہ کر تلوار تو ہاتھ میں تھی ہی کافروں کے ہجوم میں گھس گئے اور اتنے شہید نہیں ہو گئے واپس نہیں ہوئے شہادت ۔ کے بعد ان کے بدن کو دیکھا گیا توچھلنی ہوگیا تھا اسی 80 سے زیادہ زخم تیر اور تلوارکے بدن پر تھے۔ ان کی بہن نے انگلیوں کے پوروں سے ان کو پہچانا۔
ف : جولوگ اخلاص اور سچی طلب کے ساتھ اللّٰه کے کام میں لگ جاتے ہیں ان کو دنیا ہی میں جنت کا مزہ آنے لگتا ہے ۔ یہ حضرت انس زندگی ہی میں جنت کی خوشبو سونگھ رہے تھے ۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں