حج حدیث کی روشنی میں
حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص اللہ کیلئے حج کرے اس طرح کہ اس حج میں نہ رفث ہو (یعنی فحش بات) اور نہ فسق ہو (یعنی حکم عدولی ) وہ حج سے ایسا واپس ہوتا ہے جیسا اس دن تھا جس دن ماں کے پیٹ سے نکلا تھا۔
فائدہ:۔ جب بچہ پیدا ہوتا ہے وہ معصوم ہوتا ہے کہ اس پرکوئی گناہ ،کوئی لغزش کسی قسم کی داروگیر کچھ نہیں ہوتی ۔ یہی اثر ہے اس حج کا جو اللہ کے واسطے کیا جاۓ ۔ فضائل نماز کے شروع میں مضمون گزر چکا ہے کہ علما کے نزدیک اس قسم کی احادیث سے صغیرہ گناہ مراد ہوا کرتے ہیں۔اگر چہ حج کے بارہ میں جو روایات بکثرت وارد ہوئی ہیں ان کی وجہ سے بعض علما کی تحقیق ہے کہ حج سے مغائر ، کہائر سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ اس حدیث پاک میں تین مضمون ذکر فرماۓ ہیں، اول یہ کہ اللہ کے واسطے حج کیا جاۓ ، یعنی اس میں کوئی دنیوی غرض ،شہرت، ریا وغیرہ شامل نہ ہو۔ بہت سے لوگ شہرت اور عزت کی وجہ سے حج کرتے ہیں وہ اتنا حرج اور خرچ ثواب کے اعتبار سے بے کار ضائع کرتے ہیں اگر چہ حج فرض اس طرح بھی ادا ہو جاۓ گا لیکن اگر محض اللہ کی رضا کی نیت ہوتو فرض ادا ہونے کے ساتھ کس قدر ثواب ملے ۔ اتنی بڑی دولت کو محض چند لوگوں میں عزت کی نیت سے ضائع کر دینا کس قدر نقصان اور خسارہ کی بات ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ قیامت کے قریب میری امت کے امیر لوگ تو حج محض سیرو تفریح کے ارادہ سے کریں گے (گویا لندن و پیرس کی تفریح نہ کی حجاز کی تفریح کر لی)اور میری امت کا متوسط طبقہ تجارت کی غرض سے حج کرے گا کہ تجارتی مال کچھ ادھر سے لے گئے کچھ ادھرسے لے آۓ ، اور علمار یا وشہرت کی وجہ سے حج کریں گے (کہ فلاں مولانا صاحب نے پانچ جج کیئے د س حج کیئے )اور غربا بھیک مانگنے کی غرض سے جائیں گے۔ (کنزالعمال)
علما نے لکھا ہے کہ جولوگ اُجرت کے ساتھ پچ بدل کرتے ہیں کہ اس حج سے کچھ
دنیوی نفع حاصل ہو جاۓ وہ بھی اس میں داخل ہیں کہ گو یا حج کے ساتھ تجارت کر رہا ہے
جیسا کہ حدیث نمبر ۱۵ کے ذیل میں آ رہا ہے۔ دوسری حدیث میں آیا ہے کہ سلاطین اور بادشاہ تفریح کی نیت سے حج کریں گےاور غنی لوگ تجارت کی غرض سے اور فقر اسوال کی غرض سے اور علما شہرت کی وجہ سے (اتحاف) ان دونوں حدیثوں میں کچھ تعارض نہیں۔ پہلی حدیث میں جوغنی بتائے گئے ان سے اعلی درجہ کے غنی مراد ہیں جن کو دوسری حدیث میں سلاطین سے تعبیر کیا ہے۔ اور جس کو اس حدیث میں غنی سے تعبیر کیا ہے وہ سلاطین سے کم درجہ مراد ہے۔ جس کو پہلی حدیث میں متوسط طبقہ سے تعبیر کیا ہے۔
ایک حدیث میں ہے کہ حضرت عمر صفا مروہ کے درمیان ایک مرتبہ تشریف فرماتھے۔ ایک جماعت آئی جو اپنے اونٹوں سے اتری اور بیت اللہ شریف کا طواف کیا ۔ صفا مروہ کے درمیان سعی کی ۔حضرت عمر نے ان سے دریافت کیا تم کون لوگ ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ عراق کے لوگ ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ یہاں کیسے آنا ہوا؟ انہوں نے عرض کیا حج کے لئے ، حضرت عمر نے فرمایا کوئی اور غرض تو نہ تھی۔ مثلا اپنی میراث کا کسی سے مطالبہ ہو یا کسی قرضدار سے روپیہ وصول کرنا ہو یا کوئی اور تجارتی غرض ہو؟ انہوں نے عرض کیا نہیں کوئی دوسری غرض نہ تھی حضرت عمر نے فرمایا کہ از سر نو اعمال کرو۔ یعنی پہلے سارے گناہ تمہارے معاف ہوچکے۔
دوسری چیز حدیث بالا میں یہ ہے کہ اس میں رفت یعنی فحش بات نہ ہو اس سے قبل قرآن پاک کی آیت شریفہ میں بھی رفث گذر چکا ہے ۔ علما نے لکھا ہے کہ یہ ایک ایسا جامع کلمہ ہے جس میں ہر قسم کی لغو اور بیہودہ بات داخل ہے گی کہ بیوی کے سامنے صحبت کا ذکر کرنا بھی داخل ہے حتی کہ اس قسم کی بات کا آنکھ سے یا ہاتھ سے اشارہ کرنا بھی داخل ہے کہ اس قسم کا ذکر شہوت کو ابھارتا ہے۔
تیسری چیز جو اس حدیث پاک میں ذکر کی گئی وہ فسوق یعنی حکم عدولی نہ ہونا ہے۔ یہ بھی قرآن پاک کی آیت مذکورہ میں گذر چکا ہے ۔علما نے لکھا ہے کہ یہ بھی ایک جامع کلمہ ہے جواللہ کی ہرقسم کی نافرمانی کو شامل ہے اس میں جھگڑا کرنا بھی داخل ہے کہ یہ بھی حکم عدولی ہے نبی کریم ﷺ نے ایک حدیث پاک میں ارشادفرمایا کہ حج کی خوبی نرم کلام کرنا اور لوگوں کو کھانا کھلانا ہے۔ لہذا کسی سے سختی سے گفتگو کرنا ، نرم کلام کے منافی ہے اس لیئے ضروری ہے کہ آدمی اپنے ساتھیوں پر بار بار اعتراض نہ کیا کرے، بدوؤں سے سختی سے پیش نہ آئے ۔ ہر شخص کے ساتھ تواضع سے اور خوش خلقی سے پیش آۓ ۔علما نے لکھا ہے کہ خوش خلقی یہ نہیں ہے کہ دوسرے کو تکلیف نہ پہنچائے بلکہ خوش خلقی یہ ہے کہ دوسرے کیآذیت کو برداشت کرے۔ منکر کے معنی لغت میں ظاہر کرنے کے ہیں ۔علما نے لکھا ہے کہ سفر کو سفر اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ اس میں آدمی کے اخلاق ظاہر ہوتے ہیں۔ حضرت عمر نے ایک شخص سے دریافت کیا کہ تم فلاں کو جانتے ہو کہ کیسا آدمی ہے؟ انہوں نے عرض کیا جی جانتا ہوں۔ حضرت عمر نے دریافت کیا کہ تم نے بھی کوئی سفر اس کے ساتھ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ سفر تو نہیں کیا۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ پھر تم اس کو نہیں جانتے۔
ایک حدیث میں ہے کہ حضرت عمر کے سامنے ایک صاحب نے کسی کی تعریف کی کہ بہت اچھے آدمی ہیں۔ حضرت عمر نے دریافت فرمایا کہ تم نے ان کے ساتھ کوئی سفر کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ سفر تو نہیں کیا۔ پھر حضرت عمر نے دریافت کیا تمہارا ان کے ساتھ کوئی معاملہ پڑا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ معاملہ بھی نہیں پڑا تو حضرت عمر نے فرمایا کہ پھر تمہیں ان کے حال کی کیا خبر ۔ (اتحاف) حق یہ ہے کہ آدمی کا حال ایسی ہی چیزوں سے ظاہر ہوتا ہے، ویسے دیکھنے میں تو سب ہی اچھے معلوم ہوتے ہیں مگر سفر میں اکثر کشیدگی ہو ہی جاتی ہے۔اس لئے قرآن پاک میں حج کے ساتھ( وَلَا جِدَال )کو خاص طور سے ذکر کیا ہے
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں