اشاعتیں

اسم اَلْقُدُّوْسُ کے خواص

 اَلْقُدُّوْسُ جو کوئی ہزار (۱۰۰۰) بار اس اسم کو پڑھے گا سب سے بے پرواہ ہو گا (یہاں تک کہ ناجائز شہوت سے بھی) جوشخص دشمن سے بچنے کیلئے بھاگتے وقت اس کو کثرت سے پڑھے گا محفوظ رہے گا۔ جو سفر میں اس کی مداومت کرے گا کبھی نہیں تھکے گا۔ جو اس کو تین سوانیس (۳۱۹ ) بارشیر ینی پر پڑھ کر دشمن کو کھلا دے تو دشمن مہربان ہو جائے گا۔ جوزوال کے بعد ایک سوستر (۱۷۰) بار یہ اسم مبارک پڑھے اس کا دل منور ہو گا اور روحانی امراض سے پاک ہو جاۓ گا۔ جو کوئی چالیس (۴۰) دن تک خلوت میں ایک ہزار (۱۰۰۰) بار یہ اسم مبارک پڑھے گا اس کا مقصد حاصل ہوگا اور دنیا میں اس کی قوت تاثیر ظا ہر ہو جائے گی۔ اگر کوئی اس کو رات کے آخری حصہ میں ایک ہزار (۱۰۰۰) بار پڑھے تو بیماری اور بلا اس کے جسم سے دور ہو جاتی ہے .. نماز جمعہ کے بعد ایک سو پچاس(۱۵۰) بار( سبوح قدوس رب الملائكة والروح) کہ کر پھر اس کو ایک روٹی پرلکھ کر جو شخص کھاۓ دو تمام آفات سے محفوظ رہے گا اورا سے عبادت کی توفیق ہوگی۔ جو جمعہ کی نماز کے بعد( سُبُّوْحُٗ قُدُّوْسُٗ) روٹی کے ٹکڑے پرلکھ کر کھاتا رہے فرشتہ صفت ہوجاۓ گا۔

اسم اَلسَّلَامُ کے خواص

   اَلسَّلَامُ  جو ہمیشہ صبح کی نماز کے بعد ہزار(۱۰۰۰) بار اس اسم کو پڑھے گا اس کا علم زیادہ ہوگا ۔  اگر کوئی اس اسم کو ایک سو اکتالیس (141) بار یا ایک سو اکسٹھ (161) بار پڑھ کر بیمار پر دم کرے تو بیمار صحت پاۓ گا۔ جواس اسم کو کثرت سے پڑھے یا لکھ کر پاس رکھے دشمن سے بے خوف رہے گا۔  بیمار یا خائف اگر ایک سو گیارہ (111) بار پڑھ کر دم کرے تو بیماری اور خوف سے محفوظ رہے گا۔  یہ اسم مبارک چھ سونوے (۲۹۰ ) بارشیر ینی پر پڑھ کر دشمن کو کھلائے تو دشمن مہربان ہو جائے ۔  اگر کوئی ایک سوا کیس بار یہ اسم اور (سَلٰمُٗ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ) کسی مریض پر پڑھے تو مریض شفاء پاۓ گا۔  اگر کوئی شخص مریض کے پاس اس کے سرہانے بیٹھ کر دونوں ہاتھ اٹھا کر یہ اسم ایک سو چھتیسں(136) بار اتنی بلند آواز سے پڑھے کہ مریض سن لے تو انشاءاللہ اس کو شفاء ملے گی۔  ہر فرض نماز کے بعد پندرہ مرتبہ(اَللّٰهُمَّ يَاسَلَامُ سَلِّمْ) پڑھتا رہے ہر طرح کی سلامتی ہوگی۔ جو کوئی کثرت سے اس اسم کو پڑھتا رہے گا انشاءاللہ ہر آفت سے محفوظ ...

حضرت ابوذرغفارى ؓ کا اسلام

 حضرت ابوذرغفارى ؓ مشہور صحابی ہیں جو بعد میں بڑے زاہدوں اور بڑے علماء میں  سے ہوئے حضرت علی ؓ کا ارشاد ہے  کہ ابوذرغفارى ایسے علم  کو حاصل کیئے ہوئے ہیں  جس سے لوگ عاجز ہیں ۔ مگرانہوں نےاس کومحفوظ  کر رکھا ہے جب ان کو حضور اقدسﷺ کی نبوت کی پہلے پہل خبر پہنچی، تو انہوں نے اپنے بھائی کو حالات کی  تحقیق کے واسطے مکہ بھیجا کہ جوشخص ہے دعویٰ کرتا ہے کہ میرے پاس وحی آتی ہے اور آسمان کی خبریں آتی ہیں  اُس کے حالات معلوم کریں۔  اور اُس کے کلام کوغور سے سنیں۔ وہ مکہ مکرمہ آئے اور حالات معلوم کرنے کے بعد  اپنے بھائی سے ۔  جاکر کہا کہ میں نے ان  کو اچھی عادتوں اور عمدہ اخلاق کا حکم کرتے دیکھا  اور ایک ایسا کلام سنا جو نہ شعر ہے نہ کا ہنوں  کا کلام ہے۔ حضرت اَبُوذرغِفاریؓ کی  اس مجمل بات سے تشفی نہ ہوئی تو خودسامانِ  سفر کیا۔ اور مکہ پہنچے  اور سیدھے مسجد حرام  میں گئے۔ حضور کو پہچانتے نہیں تھے اور کسی سے  پوچھنا صحت کے خلاف سمجھا، شام تک اسی حال  میں رہے۔ شام کو حضرت علی ؓ    نے دیکھاکہ ...

حج حدیث کی روشنی میں

 حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص اللہ کیلئے حج کرے اس طرح کہ اس حج میں نہ رفث ہو (یعنی فحش بات) اور نہ فسق ہو (یعنی حکم عدولی ) وہ حج سے ایسا واپس ہوتا ہے جیسا اس دن تھا جس دن ماں کے پیٹ سے نکلا تھا۔  فائدہ:۔ جب بچہ پیدا ہوتا ہے وہ معصوم ہوتا ہے کہ اس پرکوئی گناہ ،کوئی لغزش کسی قسم کی داروگیر کچھ نہیں ہوتی ۔ یہی اثر ہے اس حج کا جو اللہ کے واسطے کیا جاۓ ۔ فضائل نماز کے شروع میں مضمون گزر چکا ہے کہ علما کے نزدیک اس قسم کی احادیث سے صغیرہ گناہ مراد ہوا کرتے ہیں۔اگر چہ حج کے بارہ میں جو روایات بکثرت وارد ہوئی ہیں ان کی وجہ سے بعض علما کی تحقیق ہے کہ حج سے مغائر ، کہائر سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ اس حدیث پاک میں تین مضمون ذکر فرماۓ ہیں، اول یہ کہ اللہ کے واسطے حج کیا جاۓ ، یعنی اس میں کوئی دنیوی غرض ،شہرت، ریا وغیرہ شامل نہ ہو۔ بہت سے لوگ شہرت اور عزت کی وجہ سے حج کرتے ہیں وہ اتنا حرج اور خرچ ثواب کے اعتبار سے بے کار ضائع کرتے ہیں اگر چہ حج فرض اس طرح بھی ادا ہو جاۓ گا لیکن اگر محض اللہ کی رضا کی نیت ہوتو فرض ادا ہونے کے ساتھ کس قدر ثواب ملے ۔ اتنی بڑی دولت کو محض چند لوگوں میں عزت کی ...

حضورﷺ کی 5 نصیحتیں نبی کریمﷺ نے ارشادفرمایا

کون ایسا شخص ہے جو مجھ سے پانچ باتوں کو سن کر ان پر عمل کرے یاکم از کم ایسے شخص کو بتاوے جوان پر عمل کرے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ عرض کرتے ہیں:  اے اللہ کے رسولﷺ میں ایسا کروں گا۔  فرماتے ہیں۔ کہ نبیﷺ نے  میرا ہاتھ پکڑا اور ( پانچ باتوں کو شمار کیا۔ حرام کاموں سے بچو، سب سے بڑے عابد بن جاؤ گے۔ اللہ کی تقسیم پر راضی رہو، سب سے بڑے فنی بن جاؤ گے۔ اپنے پڑوسی سے حسن سلوک کرو، مؤمن بن جاؤ گے۔ جواپنے لیے پسند کرتے ہولوگوں کیلئے بھی وہی پسند کرو مسلمان ( کامل ) بن جاؤ گے۔  زیادہ نہ ہنسا کرو، کیونکہ زیادہ ہنسنادل کومردہ کر دیتا ہے۔( ترندی)

سرکار دو عالم ﷺ کے چہرہ انور کی زیارت کا درود شریف

  صَلَّى اللّٰهُ عَلٰى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْاُمِّيِّ فائدہ: جو مسلمان مرد یا عورت شب جمعہ میں دورکعت نماز پڑھے اور ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد 35 مرتبہ سورۃ اخلاص ( قل ھواللہ احد پڑھے) اور نماز کے بعد ایک ہزار بار مذکورہ بالا درود شریف پڑھ کر دعا کرے تو اگلا جمعہ آنے سے قبل خواب میں حضرت محمدﷺ کی زیارت سے مشرف ہوگا اور زیارت کی برکت سے اللہ تعالی اس کے گناہوں کو بخش دیں گے۔ (ذریعہ الوصول حوالہ نمبر 53)

اسم اللّٰہ کے خواص

 اللّٰہ  روزانہ ایک ہزار بار پڑھنے سے کمال یقین نصیب ہوتا ہے۔  جمعہ کے دن نماز جمعہ سے پہلے پاک وصاف ہو کر خلوت میں پڑھنے سے مقصود آسان ہو جاتا ہے، خواہ کیسا ہی مشکل ہو۔ جس مریض کے علاج سے اطباء عاجز آ گئے ہوں ۔اس پر پڑھا جاۓ تو اچھا ہو جاتا ہے بشرطیکہ موت کا وقت نہ آگیا ہو۔  ہرنماز کے بعد سو(۱۰۰) بار پڑھنے والا صاحب باطن وصاحب کشف ہو جا تا ہے۔  چھیاسٹھ(۲۶) بارلکھ کر دھو کر مریض کو پلانے سے اللہ تعالی شفاء عطافرماتا ہے ۔ خواہ آسیب کا اثرکیوں نہ ہو۔  آسیب زدہ کیلئے کسی برتن پر اللہ اس برتن کی گنجائش کے بقدر لکھ کر اس کا پانی آسیب زدہ پر چھڑ کیں تو اس پر مسلط شیطان جل جاتا ہے۔  جو شخص اللہ کا محبت الہی کی وجہ سے ذکر کرے گا اور شک نہیں کرے گا وہ صاحب یقین میں سے ہوگا۔ جو ہر نماز کے بعد سات بار( ھُوَ اللّٰہُ الرَّحِیْمُ ) پڑھتار ہے گا اس کا ایمان سلب نہیں ہوگا اور وہ شیطان کے شر سے محفوظ رہے گا۔ جوشخص ایک ہزار بار( یَا اَللّٰہُ یَا هُوَ ) پڑھے گا اس کے دل میں ایمان اور معرفت کو مضبوط کر دیاجاۓ گا۔  جو شخص جمعہ کے دن عصر کی نماز پڑھ کر قبلہ رخ بیٹھ کر ...