اشاعتیں

اسم اَلْخَالِقُ کے خواص

   اَلْخَالِقُ  جوشخص آدھی رات کے بعد ایک گھنٹہ یا اس سے زیادہ اس اسم مبارک کا ورد کرے گا، الله تعالی اس کے دل اور چہرے کو منور کر دے گا۔  جس کامال یا بیٹا گم ہو گیا ہواگروہ پانچ ہزار بار اس کا ورد کرے تو گمشدہ واپس آ جاۓ گا ۔  جوسات روز تک متواتر اس کوسو بار پڑھے، تمام آفات سے سالم رہے۔  جواسے ہزار بار پڑھے گا اسے اولاد نرینہ نصیب ہوگی۔ اگر کوئی شخص ہمیشہ( اَلْخَالِقُ) پڑھتا رہے تو  الله تعالی ایک فرشتہ پیدا کر دیتے ہیں، جو اس کی طرف سے عبادت کرتا ہے اور اس کا چہرہ منور رہتا ہے۔  جو کوئی لڑائی میں تین سو بار اس کو پڑھے گا اس کا دشمن مغلوب ہوگا ۔

اسم اَلْمُتَکَبِّرُ کے خواص

    اَلْمُتَکَبِّرُ   جو بغیر تھکے اسے کثرت سے پڑھتار ہے اسے بلند قدر ومنزلت نصیب ہوتی ہے اور کوئی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا-  کسی کو بے حیائی سے روکنے کیلئے اس کا دس بار اس پر پڑھنا بہت مفید ہے۔  جو کوئی ہم بستری سے پہلے دس بار یہ اسم مبارک کو پڑھے اللّٰه جل شانہ اسے پر ہیز گار اور نیک فرزند عطا فرمائے گا۔  جو اس اسم مبارک کو ہر کام کے آغاز سے پہلے کثرت سے پڑھے گا اس کے کام میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی۔  جو اس کو اکیس مرتبہ پڑھے گا تو انشاءاللّٰہ خواب میں بھی نہیں ڈرے گا۔ جو اس کو چھ سو باسٹھ دن تک چھ سو باسٹھ مرتبہ روزانہ پڑھے گا صاحب صولت وسیاست ہوگا۔   جو دشمن سے ڈرتا ہو اس اسم کی مداومت کرے دشمن بد گوئی سے باز آجاۓ گا ۔

اسم اَلْجَبَّارُ کے خواص

 اَلْجَبَّارُ   1) جو شخص روزانہ صبح وشام دوسو پچیس مرتبہ اس اسم کو پڑھے گا انشاءاللّٰہ ظالموں کے ظلم وقہر سے محفوظ رہے گا۔ 2) اگر کوئی بادشاہ اس کو پڑھا کرے تو دوسرا با دشاہ اس پر غالب نہ ہوگا ۔ 3) جو کوئی اس اسم کو ہمیشہ پڑھتا رہے وہ مخلوق کی غیبت اور بدگوئی سے محفوظ رہتا ہے، اور اللّٰه تعال اس کی ہر ظالم و جابر سے حفاظت کرتا ہے 4) اس اسم کے ساتھ (ذُوالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ )ملا کر پڑھنا بھی حفاظت کیلئے بہت مفید ہے۔

اسم اَلْعَزِيْزُ کے خواص

   اَلْعَزِيْزُ    1) جو شخص چالیس دن تک چالیس مرتبہ پڑھے گا اللّٰه تعالی اس کو معزز و متقی بنا دیں گے۔ 2) جو شخص نماز فجر کے بعد اکتالیس بار پڑھتار ہے، وہ انشاءاللّٰہ کسی کامحتاج نہ ہوگا اور ذلت کے بعد عزت پاۓ گا۔ 3) اگر لوگ رات کے آخری حصہ میں جمع ہو کر دو دو ہزار بار یہ اسم مبارک پڑھیں تو رحمت کی بارش ہوگی۔ 4) جو( يَاعَزِيْزُ مِنْ كُلِّ عَزِيْزٍ بِحَقٍّ یَا عَزِیْزُ) پڑھے تو تمام مخلوق میں عزیز ہوگا۔ 5) جو اس اسم کو چورانوے (94) دن تک چورانوے (94) مرتبہ روزانہ پڑھ لیا کرے وہ معزوکامران رہے گا۔ 6) جواس اسم کو چار سو گیارہ دن تک دوسو بار اول و آخر درود شریف کے ساتھ پڑھے گا اس کے سب کام درست ہو جائیں گے۔ 7) جوا کتالیس بار صبح کو حاکم کے پاس جانے کے وقت یَا عَزِیْزُ پڑھ لیا کرے حاکم مہربان رہے گا۔ 8) جو عشاء کے بعد دو سو بار یَا عَزِیْزُ یَا عَزِیْزُ پڑھ لیا کرے اللّٰه تعالی کی رحمت اس کی طرف متوجہ ہو جاۓ گی ۔ 9)جوکسی (دشمن) کے لشکر کی طرف ہاتھ کا اشارہ کر کے ستر بار یہ اسم مبارک پڑھے و لشکر اللّٰه تعالی کے حکم سے شکست کھا جاۓ گا۔

اسم اَلْمُهَیْمِنُ کے خواص

    اَلْمُهَیْمِنُ   1) جو کوئی غسل کرے پھر خلوت میں توجہ کے ساتھ نماز پڑھے اور سو بار یہ اسم پڑھے، اس کے دل میں نور پیدا ہوگا اور اس کی مراد پوری ہو جاۓ گی اور عالی ہمت ہو جاۓ گا۔ 2) جوکوئی اسے انتیس بار پڑھے گا اس کو کوئی غم نہ ہوگا ۔ 3) جو یہ اسم ہمیشہ پڑھتار ہے گا تمام بلاؤں سے محفوظ رہے گا۔

اسم اَلْمُؤْمِنَ کے خواص

    اَلْمُؤْمِنَ   1) جو کثرت سے اس کا ورد کرے اس کا ایمان قائم رہے گا اور مخلوق اس کی مطیع ومعتقد ہو جائے گی۔  2) جوکوئی روزانہ تین بار یہ اسم مبارک پڑھنے کا معمول رکھے اس کوکوئی خوف نہیں ہوگا۔  3) جو کوئی ایک سو چھتیس بار یہ اسم مبارک پڑھے، ظالموں کے ظلم اور جملہ آفات سے محفوظ رہے گا۔  4) خوفزدہ آدمی اگر فرضوں کے بعد چھتیس باراس اسم کا ورد رکھے تو اس کے جان ومال محفوظ رہیں گے۔ 5) جس پر خوف طاری ہو وہ یَاسَلَامُ یَا مُؤْمِنُ کا ورد رکھے خصوصاً مسافر اگر اس کا ورد رکھے تو اللّٰه تعالی کی طرف سے امن وسلامتی نصیب ہوگی ۔ 6) جو شخص کسی خوف کے وقت چھ سوتیسں باراس اسم کو پڑھے گا انشاء اللّٰه العزیز ہرطرح کے خوف اور نقصان سے محفوظ رہے گا  7) جواس اسم کو ایک سو پندرہ بار پڑھ کر اپنے اوپر دم کرے گا ۔ انشاءاللّٰہ ہر طرح کے خوف اور نقصان سے محفوظا رہے گا   8)جو شخص اس اسم کو پڑھے یا لکھ کر پاس رکھے اس کا ظاہر و باطن اللّٰه تعالی کی امان میں رہے گا

حضرت انس بن نضر کی شہادت

  قصہ حضرت انس بن نضر کی شہادت کا حضرت انس بن نضر ایک صحابی تھے جو بدر کی لڑائی میں شریک نہیں ہو سکے تھے۔ ان کواس چیز کا صدمہ تھا اس پر اپنے نفس کو ملامت کرتے تھے کہ اسلام کی پہلی عظیمُ الشان لڑائی اور تو اس میں شریک نہ ہوسکا اس کی تمنا تھی کہ کوئی دوسری لڑائی ہو تو حوصلے پورے کردں۔ اتفاق سے احد کی لڑائی پیش آگئی جس میں یہ بڑی بہادری اور دلیری سے شریک ہوئے احد کی لڑائی میں اول اول تو مسلمانوں کو فتح ہوئی مگر آخر میں ایک غلطی کی وجہ سے مسلمانوں کو شکست ہوئی وہ غلطی یہ تھی کہ( حضور اکرم ) نے کچھ آدمیوں کو ایک خاص جگہ پر مقرر فرمایا تھا کہ تم لوگ اتنے میں نہ کہوں اس جگہ سے نہ ہٹنا کہ وہاں سے دشمن کے حملہ کر نے کا اندیشہ تھا جب مسلمانوں کو شروع میں فتح ہوئی تو کافروں کو بھاگتا ہوا دیکھ کر یہ لوگ بھی اپنی جگہ سے یہ سمجھ کر ہٹ گئے، کہ اب جنگ ختم ہو چکی اس لئے بھاگتے ہوئے کافروں کا پیچھا کیا جائے اور غنیمت کا مال حاصل کیا جائے۔ ۔ اس جماعت کے سردار نے منع بھی کیا کہ آپ کی ممانعت تھی تم یہاں سے نہ ہٹو مگران لوگوں نے یہ سمجھ کر کہ آپ کاارشادصرف لڑائی کے وقت کے واسطے تھا، وہاں سے ہٹ ...